کھرگون ، 30؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی ) مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی کے دن ہوئے تشدد کے بعد پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بڑی مقدار میں غیر قانونی ہتھیار برآمد کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے 7 دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ ضلع کی گوگاوا پولیس نے گاؤں سگنور میں چھاپہ مار کر 6 مقامات سے غیر قانونی اسلحہ بنانے والی فیکٹری کا پردہ فاش کیا ہے اور 17 غیر قانونی پستولوں کے ساتھ بھاری مقدار میں غیر قانونی ہتھیار بنانے کا سامان ضبط کیا۔
گرفتار 7 ملزمان میں ایس پی سدھارتھا چودھری پر فائرنگ کرنے والا محسن عرف وسیم بھی شامل ہے۔ ملزم طوفان سنگھ سکلیگر، جس نے وسیم کو پستول فراہم کی تھی، کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ طوفان سنگھ کے خلاف غیر قانونی اسلحہ سپلائی کے 6 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ایس پی روہت کاشوانی کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے کچھ ملک کی کئی ریاستوں میں غیر قانونی اسلحہ سپلائی کرتے تھے۔
آئی پی ایس انکت جیسوال نے کہا کہ ہمیں مخبر سے اطلاع مل رہی تھی کہ کھرگون سے غیر قانونی ہتھیار سپلائی کئے جا رہے ہیں۔ ایس پی سدھارتھ چودھری کو گولی مارنے والے ملزم محسن عرف وسیم نے بھی یہ بتایا تھا کہ اس نے پستول طوفان سنگھ نامی شخص سے خریدا تھا۔ اس سے قبل 25 اپریل کو ملزم محسن عرف وسیم سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر پولیس نے دریائے کنڈا کے کنارے سے پستول برآمد کر لیا تھا۔ اس کے بعد محسن نے پولیس کو پوچھ گچھ میں بتایا کہ اس نے غیر قانونی پستول سگنور کے طوفان سنگھ سے خریدا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے باقی ملزمان کی تلاش شروع کر دی تھی اور اب انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔